May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
نانسي بيلوسي خلال مؤتمر صحافي في طوكيو الجمعة (رويترز)

امریکی ایوان نمائندگان کی سابق سپیکر نینسی پیلوسی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سےسات اکتوبر کو حماس کے حملے پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاھو امن کی راہ میں “رکاوٹ” ہیں۔ پیلوسی کا یہ بیان امریکی ڈیموکریٹس اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان بڑھتی دراڑ کا ایک واضح ثبوت ہے۔

پیلوسی نے پیر کے روز’آرٹی ای‘ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پرسکیورٹی کی ناکامیوں پر تنقید کی جس کی وجہ سے اچانک حملہ ہوا جس میں 33 امریکیوں سمیت ایک اندازے کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔ پیلوسی نے نیوز پروگرام کو بتایا کہ “ان کے انٹیلی جنس افسر نے استعفیٰ دے دیا اور انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے”۔

اسرائیل کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ ہارون ہیلیوا نے پیر کے روز استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ “اس مشن سے ناکام رہی ہے جس کی ذمہ داری ہمیں سونپی گئی تھی اور میں ہمیشہ کے لیے جنگ کے خوفناک درد کو اپنے ساتھ لے کر رہوں گا”۔

84 سالہ پیلوسی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ میں “رکاوٹ” سمجھتی ہیں تو انہوں نے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ “وہ برسوں سے ایسا ہی رہا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ امن سے خوفزدہ ہے یا امن سے قاصر ہے یا صرف امن نہیں چاہتا تھا”۔ انہوں نے وضاحت نیتن یاھو تنازعے کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

نیتن یاہو پر پیلوسی کے حملے 14 مارچ کو سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر کی تقریر کی باز گشت ہیں جو امریکہ میں اعلیٰ ترین یہودی منتخب عہدیدار ہیں۔ بروکلین ڈیموکریٹ نے کہا تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت “7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی”۔

اس وقت، پیلوسی نے شومر کے سخت ریمارکس کو “جرات مندانہ عمل، اسرائیل کے لیے محبت کا ایک عملی اظہار” قرار دیا تھا۔

تاہم پیلوسی پیر کو اس بات پر قائم تھیں کہ اسرائیل ایک “دوست” ملک ہے اور یہ کہ امریکہ کا اہم اتحادی ہے۔ اس کا دفاع “ہماری قومی سلامتی کے مفاد میں ہے”۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے ڈیموکریٹک بیس کو خوفزدہ کر دیا ہے اور پارٹی کے اندرونی ذرائع میں یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ 5 نومبر کو جو بائیڈن کی اہم ریاستوں کو اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

پیلوسی نے یوکرین، اسرائیل اور تائیوان کے لیے غیر ملکی امدادی پیکجوں کی منظوری دے کر تنہائی پسند ریپبلکنز کو چیلنج کرنے پر ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن کی بھی تعریف کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *