May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
A counter-protester holding an Israeli flag walks into the parking lot near a protest at Google Cloud offices in Sunnyvale, California, U.S. on April 16, 2024. REUTERS/Nathan Frandino

گوگل نے اسرائیلی معاہدے پر احتجاج کرنے والے ‘الفابیٹ انک’ کے ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کارکنوں نے نمبس پراجیکٹ کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ جس کی وجہ سے انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔

گوگل کلاؤڈ سروسز اور اسرائیلی حکومت کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ 1.2 ارب ڈالر کی مالیت کا ہے۔ منگل کے روز مظاہرین نے نیو یارک سٹی، سیئٹل ، سنی ویل اور کیلیفورنیا میں گوگل کے دفاتر میں مظاہرے کیے۔ مظاہروں کی قیادت ‘نو ٹیک فار اپتھائیڈ’ نامی تنظیم کر رہی تھی۔

نیو یارک اور کیلیفورنیا میں مظاہرین نے تقریباً دس گھنٹے کا دھرنا دیا۔ مظاہرین میں سے نو کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ خیال رہے اس مظاہرے کی لائیو کوریج بھی کی گئی۔

‘الفابیٹ انک’ کے کارکنوں کو گوگل انتظامیہ کی طرف سے نوٹس بھجوائے گئے۔ ان کارکنوں کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں جو ان مظاہروں میں براہ راست شریک نہیں تھے۔ کارکنوں کو ‘ایمپلائی ریلیشنز’ کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا جس میں لکھا تھا کہ انہیں چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

گوگل نے کارکنوں کو بتایا کہ بلومبرگ اس معاملے کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں۔ صرف بنیادی معلومات کو شیئر کیا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز ‘نو ٹیک فار اپتھائیڈ’ نے بتایا کہ گوگل اسرائیلی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر احتجاج کرنے والے کارکنوں کو بتایا گیا کہ انہیں ملازمت سے برخاست کیا جا رہا ہے۔’

گوگل انتظامیہ نے اس واقعہ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پراجیکٹ نمبس کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں فعال ہونے کی سزا ملی۔ وفاقی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے ساتھ گوگل کے کام کرنے کی مخالفت کرنے کی وجہ سے انہیں نوکری سے نکالا گیا ہے۔

سان فرانسسکو سٹیٹ یونیورسٹی میں کام کرنے والے پروفیسر جان لوگن نے کہا ورکرز کو اپنے دفاع کے حق کے لیے پورا اختیار ملنا چاہیے۔ خیال رہے امریکی لیبر قانون کام سے متعلق اجتماعی کارروائی کرنے کا کارکنوں کو حق دیتا ہے۔

پروفیسر لوگن نے مزید کہا ٹیک ورکرز دیگر کارکنوں کی طرح نہیں ہیں۔ انہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ جانیں کہ ان کے ٹولز کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

کیلیفورنیا میں احتجاج کرنے والوں سے متعلق بلومبرگ کو بتایا گیا کہ بیورو کی چھٹی منزل پر آفس کے باہر کارکنوں کا ایک گروپ دھرنا دیے بیٹھا ہوا ہے۔ خیال رہے چھٹی منزل پر کلاؤڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تھامس کورین کا دفتر ہے۔ سیکورٹی عملہ نے مظاہرین کو بتایا کہ انہیں دھرنے کی ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ نیز کسی قسم کا نعرہ لگانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

گوگل کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملازمت سے برطرفی کے معاملہ کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ کسی قسم کے مسئلے سے بچا جا سکے اور گوگل کا یہ چہرہ لوگوں کے سامنے نہ آسکے۔

گوگل کے ایک کارکن نے بتایا کہ ان مظاہروں کے بعد گوگل کے اندرونی فورمز پر ہونے والی پوسٹنگ فلسطین اور اسرائیل دونوں کے حق میں تھی۔ جبکہ بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ فورم اس کام کے لیے مناسب نہیں ہے۔ کارکنوں نے مزید بتایا کہ کچھ ‘تھریڈز’ کو یہ کہہ کر بند کیا گیا ہے کہ بات چیت کافی گرم ہوگئی تھی۔

گوگل کے کارکن نے بتایا کہ پروجیکٹ نمبس کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور کارکنوں کی برطرفی سے مظاہرین کو کافی حمایت ملی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *