April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
من دير البلح وشط غزة (أرشيفية-أسوشييتد برس)

ورلڈ سینٹرل کیچن نامی امریکی امدادی تنظیم سے وابستہ کثیر القومی عملے پر حملے کی دنیا بھر سے مذمت کے بعد اسرائیل نے تسلیم کر لیا ہے کہ امریکی امدادی تنظیم کے ارکان نے اپنی نقل وحرکت سے متعلق اسرائیلی فوج کو پیشگی اطلاع فراہم کی تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ کی امدادی تنظیم ’ورلڈ سینٹرل کیچن‘ کے ارکان کو دیر البلح میں اپنے ویئر ہاؤس سے روانگی کے موقع پر اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

Play Video

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے منگل کے روز اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے سات امدادی کارکنوں نے انسانی امداد کی فراہمی کی غرض سے اپنی نقل وحرکت کی پیشگی اطلاع اسرائیلی فوج کو فراہم کی تھی۔

اتھارٹی کے مطابق اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ سکیورٹی حکام نے رنج اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ‘‘کہ عالمی سطح پر اس واقعے کے ہم پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ اس کارروائی میں نشانہ بننے والے افراد دراصل غزہ میں انسانی امداد کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کو یقینی بنانے میں مصروف تھے۔‘‘

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف ہرزی حلوی نے اس واقعے کے بعد سدرن کمان کے کمانڈر یارون وینکلمان اور غرب اردن وغزہ میں اسرائیلی حکومت کے کوارڈی نیٹر غسان علیان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا اسرائیلی فوج جلد ہی واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر کے اس کے نتائج سے عوام کو آگاہ کرے گی۔

یہ بات امریکی تنظیم ’ورلڈ سینٹرل کیچن‘‘ کے منگل کو سامنے آنے والے بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امدادی تنظیم کا عملہ دو بکتر بند گاڑیوں پر سوار تھا اور وہ جنگ سے متاثرہ علاقے سے دور جا رہی تھی۔ بکتر بند گاڑی پر شناخت کے لیے تنظیم کا لوگو واضح طور پر آویزاں کیا گیا تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ ان بکتر بند گاڑیوں پر اسرائیلی فوج نے بمباری کی جس کے نتیجے میں ورلڈ سینٹرل کیچن سے وابستہ عملے کے سات افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد تنظیم نے غزہ میں اپنا امدادی آپریشن روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *