April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Pope Francis presides over the '24 Hours for the Lord' Lenten initiative at the Roman parish of San Pio V, in Rome, Italy, March 8, 2024. (Reuters)

پوپ فرانسس بدھ کے روز قدرے بہتر صحت کے ساتھ خود چل کر ویٹیکن کے ہال میں داخل ہوئے۔ وہ اپنے ہفتہ وار سامعین کے لئے اگرچہ چھڑی کے سہارے چل کر آئے تھے مگر ان کی آواز واضح تھی اور تحریر کیا مسودہ پڑھ رہے تھے۔

پام سنڈے کے بعد پہلے بار سینٹ پیٹرز سکوائر میں سامعین کے سامنے تھے۔ اس وقت انہوں نے اپنی صحت کے پیش نظر اپنی تقریر جاری رکھنے سے بھی گریز کیا تھا۔

87 سالہ پوپ نے اکثر چلنے میں مشکل محسوس کرنے کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے اپنا لکھا ہوا مسودہ بھی اپنے ایک معاون کو پڑھنے کے لئے کہہ دیا۔ ان کے تیز تیز سانس لینے کو بھی سنا جا سکتا تھا۔

مقدس ہفتے کا شیڈول عام طور پر پوپ کے لئے چیلنجنگ ہوتا ہے ۔مگر اس سال بطور خاص یہ مشکل رہا ۔ وجہ پوپ کی صحت بنی۔ سرما کے ساتھ ان کی صحت کا مسئلہ چلتا ہی رہا۔ سردیوں میں عام طورب پر ویٹیکن نے ان کی صحت کا فلو اور برانکسئٹس کے حوالے سے ہی ذکر کیا۔

تاہم بدھ کے روز انہوں نے سامعین کے لئے صبر کے فضائل کا ذکر کیا اور امن کے لئے اپنی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے جاری لڑائیوں کو فوری روکنے کی اپیل کی۔انہوں نے اس امر کو بھی نوٹ کیا ہال میں ان کے سامعین میں دو پادری موجود تھے۔ ان میں سے ایک پادری کا تعلق فلسطین سے تھا اور ایک کا اسرائیل سے ۔

پوپ نے کہا’ ان دونوں نے مشرق وسطی کے تصادم میں اپنی بیٹیوں کو کھو دیا ہے ۔یہ دونوں آپس میں دوست ہیں۔ یہ دونوں جنگوں والی دشمنی پر نہیں دوستی پر یقین رکھتے ہیں۔

ویٹیکن کے پریس آفس نے بتایا ہے کہ دونوں کی بیٹیاں گولیوں کا نشانہ بنی ہیں۔ ایک کی بیٹی کو اسرائیلی فوجی نے سکول سے نکلتے ہی فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور دوسرے کی بیٹی یروشلم میں ایک حملے کے دوران ہلاک ہوئی۔ تاہم یہ پرانے واقعات ہیں ۔ ایک واقعہ 1997 میں پیش آیا تھا اور دوسرا واقعہ 2007میں پیش ایا تھا۔

واضح رہے پوپ نے سات اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کے روکنے کی بھی اپیل کی تھی۔ اب تک غزہ کی اس جنگ میں 32414 فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔ ان میں دو تہائی مقتولین کی تعداد بچوں اور عورتوں پر مشتمل ہے۔ پوپ نے ان دونوں پادریوں کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا اور ان کے ساتھ الگ سے ملاقات بھی کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *