April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں آپریشن رمضان کے بعد ہو سکتا ہے

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ محکمہ کو یقین نہیں ہے کہ قیدیوں کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا واشنگٹن کا خیال ہے کہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا امکان ہے۔ نامہ نگاروں کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا رفح میں محدود فوجی کارروائی حماس کے بقیہ رہنماؤں کو ختم کر سکتی ہے، ملر نے کہا ” جی ہاں۔”

جنگ بندی کے مطالبات اور دونوں جانب سے مستقل جنگ بندی پر رضامندی کے لیے شدید دباؤ کے باوجود امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں اسرائیلی وزیر دفاع اور اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں جنگ روکنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی اور غور کیا گیا کہ آپریشن کے آغاز کے دوران شہریوں کی حفاظت کیسے کی جائے۔

بات چیت کا عملی لہجہ گزشتہ ہفتوں سے اس وقت رخصت ہوچکا جب سینئر امریکی حکام نے دو ٹوک الفاظ میں اسرائیل کو رفح پر ہر قسم کے حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ یاد رہے رفح می 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ اس عرصہ میں رفح اسرائیلی اور امریکی سیاسی رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔

یہ کشیدگی پیر کو اس وقت بڑھ گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے رفح پر منصوبہ بند حملے کے بارے میں امریکی خدشات پر بات کرنے کے لیے اپنے سینئر معاونین کا واشنگٹن کا دورہ منسوخ کر دیا۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ میں امریکہ کے حصہ نہ لینے کے جواب میں کیا گیا۔ سلامتی کونسل کی قرار داد میں 15 میں سے 14 ارکان نے فوری جنگ بندی کی حمایت کی تھی اور امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کرنے سے گریز کیا تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر اور منگل کو وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون میں پہلے سے طے شدہ اپنی ملاقاتیں جاری رکھیں۔ گیلنٹ اسرائیل کی تین رکنی جنگی کابینہ کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن میں گیلنٹ کی بند کمرے کی میٹنگوں میں ایک زیادہ حقیقت پسندانہ گفتگو سامنے آنا شروع ہوئی ہے۔ اس بات چیت میں اسرائیلی دعویٰ کے مطابق رفح میں موجود حماس کی چار بریگیڈوں کو ختم کرنے کے آپریشن اور اس دوران شہریوں کو ممکنہ نقصان کو محدود کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مصری حکام نے بدھ کے روز کہا کہ دوحہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں تعطل کا شکار عارضی جنگ بندی مذاکرات کے بعد اسرائیلی حکام نے ثالثوں کو بتایا کہ اگر کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو اسرائیل رمضان کے وسط اپریل کے قریب ختم ہوتے ہی رفح میں آپریشن شروع کر سکتا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے آخر تک قاہرہ میں بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے لیکن اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ دوسرے آپشنز پر غور کرے گا جس میں جلد از جلد رفح پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔ اگرچہ گیلنٹ اور امریکی حکام نے رفح آپریشن کے بارے میں وسیع تر تصورات کا تبادلہ کیا ہے لیکن اسرائیلی فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں کی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *