April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US Special Envoy for Yemen Tim Lenderking speaks to Al Arabiya English on Feb. 15, 2024. (Screengrab)

یمن کے لیے امریکی نمائندے ٹم لینڈرکنگ نے کہا ہے کہ ہمارے حوثیوں پر یمن میں حملے بڑے کامیاب جا رہے ہیں، تاہم حوثیوں نے بحیرہ احمر میں حملے روک دیے تو ہم بھی اپنے حملے روک دیں گے۔ امریکی نمائدے نے کہا اگرچہ ہماری حوثیوں کی فوجی قوت کو کمزور کر دینے کی صلاحیت بھر پور کامیاب ہے، ہم اسے جاری بھی رکھ سکتے ہیں اور روک کر واپس امن کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ‘العربیہ’ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے ماہ نومبر سے اب تک بحیرہ احمر میں چالیس تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کو کہنا ہے کہ ان کے یہ حملے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں اور غیر معمولی تباہی کے خلاف ہے۔ ہم ان حملوں کو غزہ میں جنگ بندی کی صورت روک دیں گے۔

ان حملوں کا امریکہ اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر جواب دے رہا ہے۔ ان اتحادیوں میں برطانیہ سب سے نمایاں ہے۔ جو براہ راست یمن کے اندر بھی حوثی مراکز پر حملوں میں امریکہ کے ساتھ رہاہے۔ جبکہ دیگر اتحادی بحیرہ احمر میں امریکہ کے ساتھ دے رہے ہیں۔

ٹم لینڈر کنگ نے پچھلے ہفتے خلیج ی ممالک کادورہ کرنے کے بعد امریکی سینٹ کام کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کا بھی دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی جنگی صلاحیت کی تعریف کی ہے۔

ٹم لینڈرکنگ کا کہنا تھا’ ہماری افواج پیشہ ورانہ اہلیت و مہارت کی حامل ہیں وہ اپنے حوثیوں کے حوالے سے شناخت کردہ اہداف کو کامیابی سے تباہ کر رہی ہیں۔’

امریکی نمائندے نے کہا ‘ حوثیوں کا غزہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔’ ان کا کہنا ہے کہ میرا پچھلے ہفتے خلیجی ملکوں کا دورہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں کشیدگی کم کرنے کی غرض سے تھا۔’

دوسری جانب حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اسرائیل سے آتے ہیں یا اسرائیل کی طرف جاتے ہیں۔ لیکن کئی ایسے جہاز بھی حملے کی زد میں آئے ہیں جو اسرائیل سے متعلق نہ تھے۔

امریکی نمائندہ برائے یمن نے حوثیوں کو تیل کی قیمتوں اور دوسری اشیائے ضرورت کے نرخوں میں اضافے کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔ ان کے مطابق حوثی اپنی کوششوں سے خود کو تنہا کر رہے ہیں اور بہت سے ملکوں کو اپنا دشمن بنا رہے ہیں۔’ بحیرہ احمر میں ان کے حملے فلسطینیں کے لیے نہیں بلکہ بے سمت اور غیر مناسبب ہیں۔

نمائندے نے کہا ‘ میں اور میرا ملک غزہ میں امن چاہتے ہیں۔وزیر خارجہ بلنکن اس سلسلے میں دن رات کام کر رہے ہیں۔ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ہمارے لیے بہت اہم ہے لیکن حوثی بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ان کوششوں کا حصہ نہیں۔ اپنی کوششوں سے حوثی فلسطینیوں کے لیے کچھ ایسا نہیں کر رہے جو ان کے کام آئے۔

جمعرات کے روز امریکی فوج نے ایرانی اسلحے سے بھرا ایک جہاز روکا ہے۔ یہ جہاز یمن میں حوثیوں کے لیے اسلحہ لے جارہا تھا۔ ٹم لینڈر کنگ نے کہا ‘ ان سے پوچھیں کہ ایران اس سے حوثیوں کو اسلحہ ددینا جاری رکھ کر کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔ ایران علاقے میں منفی کھیل کھیل رہا ہے۔

وہ نہ حوثیوں کو روکنے کے لیے کہہ رہے ہیں نہ وہ انہیں روکنے کے لیے کہتے ہیں۔’ ہم البتہ ایران سے کہیں گے کہ وہ بحیرہ احمر میں تصادم پر مزید تیل نہ ڈالے۔’ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ‘سات اکتوبر سے پہلے تک ہمارے یمن میں معاملات اچھے چل رہے تھے۔’ لیکن اب جمعہ کے دن سے حوثیوں کو دیا گیا دہشت گردی کا ٹائٹل پھر سے موثر ہو جائے گا۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *