April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Russian Middle East envoy Mikhail Bogdanov speaks to journalists after meeting with the Palestine Liberation Organisation secretary general in the West Bank city of Ramallah on September 6, 2016.  ABBAS MOMANI / AFP

روس نے فلسطینی مزاحمت کے حوالے سے اہم ترین گروپ حماس سمیت دیگر فلسطینی گروپوں کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ روسی دورے پر آئیں تاکہ ان کے ساتھ فلسطین کاز اور موجودہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاسکے اور یہ باہم بات چیت کر کے کسی مشترکہ موقف پر اکٹھے ہو سکیں۔

ذرائع کے مطابق ماسکو فلسطینی گروپوں کی آمد پر غزہ کی جنگ، اسرائیل حماس جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات اور علاقے کی امکانی صورت حال زیر بحث آئیں گے۔

روس نے اس سے پہلے اسراءیلی جنگ کے آغاز میں بھی حماس قیادت کو روس کی دعوت دی تھی۔ واجح رہے روس گزشتہ کئی برسوں سے مشرق وسطیٰ کے امور میں اپنی دلچسپی بڑھائے ہوئے ہے۔ اس لیےاس نے اس عرصے میں خطے کے بڑے اور موثر کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کو اپنی ترجیح بنارکھا ہے۔

اسرائیل کو روس کے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کےساتھ تعلقات اور رابطوں پر سخت پریشانی ہوتی ہے۔ پچھلے تقریباً ساڑھے چار ماہ کو چھوچکی غزہ میں جنگ کے بعد سے روس نے حماس کے اور فلسطینیوں کی طرف جھکاؤ دکھایا گیا ہے۔ اس پر بھی اسرائیل اور امریکہ خوش نہیں ہیں۔

اب کی بار روس نے ایک درجن بھر فلسطینی گروپوں کو اپنے ہاں انے کی دعوت دی ہے۔ ان گروپوں کا اولین مقصد ان کے درمیان غلط فہمیوں کو کم کرنا اور باہمی مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ بات روسی نائب وزیر خارجہ میخائیل بوگودانوف نے روسی خبر رساں ادارے کو بتائی ہے۔

روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہم نے 29 فروری کو تمام فلسطینی گروپوں جو قریباً ایک گروپ کو ایک میز پر بٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ مل کر کسی سمت اور نتیجے پر متفق ہو سکیں۔ جن گروپوں کو روس کی طرف سے دعوت دی گئی ہے ان میں حماس، اسلامی جہاد ، فتح ، پی ایل او، وغیرہ شامل ہے۔

چار ماہ سے زائد عرصے سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران اب تک 28775 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ جبکہ اسرائیل کی رفح میں جنگی یلغار کی باضاطہ منسوبہ بندی اور تیاری بھی اپنے تکمیلی مرحلے میں ، اگرچہ اسرائیل نے بالواسطہ طور پر جنگ بندی کے لیے مذاکارت بھی شروع کر رکھے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *