April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

ایک کمزور 80 سالہ ریٹائر شدہ ٹیکنالوجی کا شوقین ویکیپیڈیا مصنف ہر کسی کے تصور پر پورا نہیں اترتا لیکن جیرینا کڈنی رووا آن لائن انسائیکلوپیڈیا کی لیے ایک سرگرم معاون ہیں۔

ایک سابق لائبریرین اور کتابیات نگار کڈنیرووا نے پراگ کے جنوب میں سوبیرڈی گاؤں میں اتوار کی ایک دھوپ سے بھرپور صبح اپنے سیل فون سے ایک تصویر کھینچی۔

عمارت کے ارد گرد تجسس بھری نظر ڈالتے ہوئے اور صبح کے اجتماع سے نکلتے ہوئے مقامی لوگوں سے بات کرتے ہوئے وہ اپنے اگلے مضمون کے لیے ایک مقامی پروٹسٹنٹ چرچ میں مواد جمع کر رہی ہیں۔

یہ اوسط درجے کے چیک وکی پیڈیا معاون سے کافی مختلف ہے جسے وکی میڈیا فاؤنڈیشن کے چیک یونٹ کی چیف ایگزیکٹیو کلارا جوکلووا “ٹیکنالوجی پس منظر والے 15-35 سال کی عمر کے ایک آدمی” کے طور پر بیان کرتی ہیں — جو جیرینا کڈنیرووا بالکل نہیں ہیں۔

جب سے انہوں نے جمہوریہ چیک کے لیے 2013 میں شروع کردہ “سینئرز رائٹ ویکیپیڈیا” منصوبے کے تحت بزرگ افراد کا تربیتی کورس کیا ہے، وہ اوپن سورس انسائیکلوپیڈیا کے لیے مضامین لکھ رہی ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، “یقیناً میں نے کئی سالوں سے وکی پیڈیا استعمال کیا کیونکہ لائبریرین اس کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہوں گی۔”

ایک سائنسی لائبریری کے سربراہ کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد کڈنیرووا کبھی بھی ایک عام پنشنر نہیں بنیں — ایک لیبل جو وہ اصرار کرتی ہے کہ انہیں ناپسند ہے۔

اس کے بجائے انہوں نے یونیورسٹی کے کورسز میں جانا شروع کر دیا، چیک اکیڈمی آف سائنسز میں کتابیات نگار کی نوکری لی اور وقتاً فوقتاً ٹورسٹ گائیڈ کے طور پر کام کرتی رہیں۔

سات سال پہلے ان کے پوتے نے مشورہ دیا کہ وہ ویکیپیڈیا میں شراکت کر سکتی تھیں۔

“انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک اچھی مہارت تھی کہ میں اچھی طرح سے فارمولیشن کر سکتی ہوں، یہ کہ میں نے کچھ چیزیں لکھی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں ڈیٹا بیس اور کیٹلاگ میں اپنا راستہ بنا سکتی ہوں۔”

‘ایک امید افزا گروپ’

وکی پیڈیا پر ان کا پہلا مضمون چھوٹے سے جنوبی قصبے میں ایک گوتھک چرچ پر مرکوز تھا جہاں وہ ایک ٹورسٹ گائیڈ ہیں۔ یہ تقریباً 100 مضامین میں سے ایک ہے جو زیادہ تر تاریخی مقامات پر مرکوز ہیں جس کے بعد سے ان کے مضامین شائع ہوئے ہیں۔

انہوں نے 1,500 سے زیادہ موجودہ مضامین میں ترمیم بھی کی ہے جن میں اکثر ان کے آبائی شہر پراگ کے آس پاس کے علاقے میں کتب خانوں کے بارے میں معلومات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

چیک ویکیپیڈیا میں نصف ملین سے زیادہ اندراجات ہیں اور تقریباً 600 باقاعدہ اور ہزاروں کبھی کبھار کے معاونین کا اندراج ہے — جس میں چیک بزرگوں کا ایک مسلسل بڑھتا ہوا گروپ شامل ہے۔

پراگ کے ایک سینئر سینٹر میں ایک ورکشاپ کی قیادت کرتے ہوئے یونیورسٹی کے طالب علم جان میساک نے کہا عمر رسیدہ افراد “ایک امید افزا گروپ” ہیں۔

ایک مضمون میں معلوماتی باکس داخل کرنے کے طریقوں کے بارے میں جیرینا کڈنیرووا کی رہنمائی کرنے کے بعد انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، “اول تو یہ کہ ان کے پاس وقت ہوتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، “لیکن ان کے پاس زندگی کا تجربہ بھی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا لکھنا چاہتے ہیں۔”

انسائیکلوپیڈیا کا انتظام کرنے والی غیر منافع بخش وکیمیڈیا فاؤنڈیشن کے مطابق اب تک تقریباً 700 افراد بزرگوں کے لیے بنائے گئے مفت کورسز پاس کر چکے ہیں۔

ویکیپیڈیا ہر ماہ ایک ارب سے زیادہ صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو 300 سے زیادہ زبانوں میں 62 ملین سے زیادہ مضامین پیش کرتا ہے۔

‘اس پر اپنا ہاتھ رکھنا’

ایک پرجوش سیاح کڈنیرووا پراگ سے باہر سفر کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے کے مواقع سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔

کڈنیرووا نے اپنے خوبصورت چیک لہجے میں مزید کہا، “جب میں کسی چیز کے بارے میں لکھتی ہوں تو میں اس پر ہاتھ رکھنا چاہتی ہوں۔”

ویکیپیڈیا کے لیے لکھنے اور اس جذبے کے اشتراک کے لیے انہوں نے حال ہی میں ایک دوست — ایک اور ریٹائرڈ ہیڈ لائبریرین — کو بھرتی کروایا ہے۔

کڈنیرووا نے کہا، “مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں تاریخ کے ایک پارچے پر ایک نظر ڈال سکوں اور یہ پتا چلے کہ کسی نے اندراج کی تعریف کی یا اس میں کچھ شامل کیا ہے۔ یہی چیز مجھے خوش کرتی ہے۔”

“میرے ایک دوست نے ایک بار مجھے بتایا کہ میں بنی نوع انسان کے لیے کافی کام نہیں کر رہی تھی۔ تو اب میں آخرِ کار کر رہی ہوں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *