April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
سس

ازبکستان کی ایک عدالت نے مضر صحت عناصر کی ملاوٹ والے کھانسی کے شربت کی وجہ سے 68 بچوں کی موت کے مقدمے میں 23 افراد کو سزا سنائی ہے۔

تاشقند سٹی کورٹ نے پیر کو فیصلہ سنایا کہ مدعا علیہان ٹیکس چوری، غیر معیاری یا جعلی ادویات کی فروخت، عہدے کے غلط استعمال، غفلت، جعل سازی سے لے کر رشوت خوری تک کے جرائم کے مرتکب ہیں۔

ملزمان کو دو سے 20 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ گذشتہ سال ملاوٹ والی ادویات کی وجہ سے تقریبا 18 بچوں کی موت کی خبر آئی تھی۔

بھارت میں ماریون بائیوٹیک کی تیار کردہ اور ازبکستان میں قرمیکس میڈیکل کے ذریعے تقسیم کردہ کھانسی کے سیرپ میں ملاوٹ کا پتا لگایا گیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تحقیق میں ماریون بائیوٹیک کے کھانسی کے دو سیرپ ’غیر معیاری‘ پائے گئے تھے۔

رپورٹ میں دو عناصر ڈائتھیلین گلائکول اور/ یا ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول مقدار پائی گئی۔ دونوں انسانوں کے لیے زہریلے ہیں اور اگر استعمال کیا جائے تو جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔

اگرچہ کمپنی نے ملاوٹ کے الزامات سے انکار کیا ہے، لیکن بھارت کی وزارت صحت نے اس کی پیداوار روک دی ہے اور شمالی ریاست اتر پردیش میں فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ نے کمپنی کا لائسنس معطل کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرائل کے آغاز میں ملاوٹ والی دوا کی وجہ سے مرنے والے بچوں کی مجموعی تعداد 65 تھی جبکہ بعد میں مزید تین بچوں کی موت ہوگئی۔

ان 23 افراد میں قرمیکس میڈیکل کے انڈین ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنگھ راگھویندر پرتار بھی شامل تھے۔ انہیں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق جن دیگر ملزمان کو طویل سزائیں سنائی گئیں ان میں سابق سینیئر افسران بھی شامل ہیں جو درآمد شدہ ادویات کو لائسنس دینے کے ذمہ دار تھے۔

عدالت نے 63 ہزار پاؤنڈ (ایک ارب ازبک رقم) کا معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا جو شربت کے استعمال سے مرنے والے 68 بچوں کے خاندانوں اور معذور ہونے والے چار دیگر بچوں کو بھی ادا کیا جائے گا۔

بھارت میں تیار کردہ کھانسی کے شربت کو حالیہ برسوں میں متعدد اموات سے جوڑا گیا ہے۔ بھارت میں تیار کردہ چار کھانسی کے شربت کے استعمال سے 2022 میں گیمبیا میں 70 بچوں کی موت نے غم وغصے اور تشویش کو جنم دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *