April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Nobel peace laureate Muhammad Yunus speaks at the Trust Women conference in London. (File photo: Reuters)

بنگلہ دیش کے نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کہتے ہیں کہ یہ ایک “ملین ڈالر کا سوال” ہے کہ وزیرِ اعظم ان سے نفرت کیوں کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ کہتے ہیں کہ کئی لوگوں کے خیال میں وہ انہیں ایک سیاسی خطرہ سمجھتی ہیں۔

اپنے اہم مائیکرو فنانس بینک کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کا سہرا 83 سالہ یونس کے سر جاتا ہے لیکن انہوں نے دیرینہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سے دشمنی کمائی ہے۔

ایک مجرمانہ مقدمے میں سزا سنائے جانے کے ہفتوں بعد گذشتہ مہینے ان کی کئی فرموں پر”زبردستی” قبضہ کر لیا گیا۔ اس مقدمے کے بارے میں ان کے حامی کہتے ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا۔

انہوں نے کہا، “وہ مجھے خونخوار کہتی ہیں، وہ تمام خراب باتیں کہتی ہیں جو ان کے ذہن میں آ سکتی ہیں۔”

انہوں نے ازخود حسینہ پر براہِ راست الزام لگانے سے احتیاط سے گریز کرتے ہوئے مزید کہا، “وہ مجھ سے نفرت کیوں کرتی ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ معاملہ سیاسی ہے… (کہ) وہ مجھے ایک سیاسی مخالف سمجھتی ہیں۔”

جنوری میں یونس اور ان کی قائم کردہ ایک فرم گرامین ٹیلی کام کے تین ساتھیوں کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی کا قصوروار پائے جانے کے بعد چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

چاروں نے الزامات سے انکار کیا اور زیرِ التوا مقدمے میں ضمانت پر رہا ہیں۔

‘یک جماعتی ریاست’

یونس جنہیں لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں اور مبینہ بدعنوانی کے 100 سے زائد دیگر الزامات کا سامنا ہے، نے کہا ان کی کمپنیوں پر زبردستی قبضے کا تعلق جمہوریت کی کمی سے ہے۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک انٹرویو میں اے ایف پی کو بتایا، “یہ مقدمات معمولی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔”

“چونکہ مجھے اس کی کوئی قانونی بنیاد نظر نہیں آتی اس لیے شاید یہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیےگئے ہیں۔”

سابق امریکی صدر براک اوباما اور اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون سمیت تقریباً 160 عالمی شخصیات نے گذشتہ سال ایک مشترکہ خط شائع کیا جس میں یونس کی “مسلسل عدالتی ہراسگی” کی مذمت کی گئی۔

دستخط کنندگان بشمول ان کے 100 سے زائد نوبل انعام یافتہ ساتھیوں نے کہا کہ وہ “ان کی حفاظت اور آزادی” کی طرف سے خوفزدہ تھے۔

76 سالہ حسینہ نے جنوری میں اپنے مسلسل چوتھے عام انتخابات میں حقیقی اپوزیشن جماعتوں کے بغیر ووٹ میں کامیابی حاصل کی جس میں وسیع پیمانے پر بائیکاٹ اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شامل تھا۔

ناقدین بنگلہ دیشی عدالتوں پر حسینہ کی حکومت کے فیصلوں پر بلا غور و خوض عمل درآمد کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، “یہ یک جماعتی ریاست ہے کیونکہ دوسری پارٹیوں کو شمار نہیں کیا جاتا ۔ ہم اپنے خیالات کا اظہار اور پولنگ بوتھ پر جا کر اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکتے۔”

2007 میں یونس نے “ناگورک شکتی” یا “شہریوں کی طاقت” تحریک کا آغاز کیا تاکہ سیاست میں تیسرا آپشن پیش کیا جا سکے جس پر عشروں سے حسینہ اور ان کی حریف خالدہ ضیاء کا غلبہ ہے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ اقتدار کی کشمکش اور جھگڑے کی دشمنیوں پر تیزی سے مایوس ہو جانے کے بعد انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

انہوں نے کہا، “میں کوئی سیاسی آدمی نہیں ہوں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ اس لیے میں نے فوراً اعلان کیا کہ میں کوئی سیاسی جماعت نہیں بنانے جا رہا۔”

‘نئی قسم کی دنیا’

یونس نے جمہوری حقوق کی اہم ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، “اگر آپ کے پاس جمہوریت نہیں ہے تو انسانی حقوق ختم ہو جائیں گے۔ کیونکہ کوئی بھی اعتراض نہیں کرے گا، کیونکہ کوئی بھی آپ کی حفاظت کے لیے نہیں ہے، قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے”۔

وہ محتاط ہیں کہ یہ نہ کہیں کہ ان کی کمپنیوں پر قبضہ کرنے کی تازہ ترین کوشش حکومت کی طرف سے تھی لیکن سرکاری ردِعمل کی شدید کمی کو نوٹ کیا۔

انہوں نے کہا، “اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو عمارات اور دفاتر پر قبضے وغیرہ کے معاملے میں جب میں پولیس کے پاس جاؤں تو پولیس فوراً آ جائے گی کیونکہ ان کی ذمہ داری میری حفاظت ہے۔”

“پولیس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ چلے گئے، انہیں کچھ غلط نظر نہیں آیا۔ یہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔”

وہ اپنے “تھری زیرو” منصوبے کے مستقبل سے خوفزدہ ہیں جس کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا، بے روزگاری کا خاتمہ اور غربت میں کمی لانا ہے۔

انہوں نے کہا، “اگر مجھے جیل میں ڈال دیا گیا تو یہ پوری دنیا میں اس تحریک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا جہاں لوگ ایک نئی قسم کی دنیا بنانے کے لیے اپنے دن رات وقف کر رہے ہیں۔”

لیکن یونس سوئٹزرلینڈ یا امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی میں اپنا کام جاری رکھنے کی پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، “میں کہتا رہتا ہوں کہ نہیں، نہیں، مجھے یہیں رہنا ہے، یہیں سے یہ سب شروع ہوا۔”

انہوں نے مزید کہا،”یہ صرف میں ہی نہیں – یہ ملک بھر میں میرے لوگوں کا پورا گروپ ہے جو اس کے لیے وقف ہیں، انہوں نے اپنی زندگی اس پر صرف کی ہے۔”

“اگر میں کہیں اور منتقل ہو جاؤں تو ساری چیز گر کر بکھر جائے گی۔ یہ پوری چیز کو بکھیر کر تباہ کر دے گا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *