April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

ہندوستانی کسان بس اور ٹرین کے ذریعے دارالحکومت نئی دہلی میں داخل ہو کر بدھ سے اپنے احتجاج کو تیز کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور سرحدی مقامات پر اپنی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں جو اس وقت ٹریکٹر کھڑے کر کے بند کیے ہوئے ہیں۔

ہزاروں کسانوں نے گذشتہ ماہ “دہلی چلو” مارچ شروع کیا لیکن انہیں سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر (125 میل) شمال میں آنسو گیس اور واٹر کینن کے ذریعے روک دیا۔

کسانوں نے جو اپنی فصلوں کی زیادہ قیمتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، کئی ادوار کی ناکام بات چیت کے بعد اپنا احتجاج تیز کر دیا۔

ایک کسان رہنما رمن دیپ سنگھ مان نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوب میں کیرالہ سے لے کر وسطی ہندوستان میں مدھیہ پردیش تک مختلف ریاستوں کے کسان بدھ کو ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے نئی دہلی پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا، “پنجاب اور ہریانہ کے کسان موجودہ احتجاجی مقامات پر ٹریکٹر ٹرالیوں کے ساتھ احتجاج جاری رکھیں گے۔ وہ صرف ٹریکٹر لے کر نئی دہلی میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔”

خاص طور پر شمالی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ کے ہزاروں کسان تقریباً 3,000 ٹریکٹروں کے ساتھ تین سرحدوں پر پھنس گئے ہیں جنہیں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے رکاوٹیں لگا کر روک دیا تھا۔

کسانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جن میں لاٹھی چارج اور ڈرون کے ذریعے آنسو گیس کے کنستر پھینکنا شامل ہیں، ٹیلی ویژن اسکرینوں پر کئی دنوں سے دکھائے جا رہے ہیں۔ کسان کہتے ہیں کہ جھڑپوں میں مظاہرین میں سے کم از کم ایک ہلاک جبکہ دونوں طرف سے درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

مان نے کہا کہ احتجاج کرنے والے کسان 10 مارچ کی سہ پہر کے دوران ملک بھر میں ریلوے لائنوں کو چار گھنٹے کے لیے بلاک کر دیں گے۔

مان نے کہا کہ کسان اس وقت تک احتجاج جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں جب تک کہ ان کے بہتر امدادی قیمتوں کے مطالبات قانون کی حمایت سے پورے نہیں ہو جاتے۔

حکومت ہر سال 20 سے زائد فصلوں کی امدادی قیمتوں کا اعلان کرتی ہے لیکن ریاستی ادارے امدادی سطح پر صرف چاول اور گندم خریدتے ہیں جس سے ان دو فصلوں کو کاشت کرنے والے صرف چھے فیصد کسانوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *