April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
امریکی وزارت خزانہ

بحیرہ احمر میں حملوں کے ردعمل کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر واشنگٹن نے آج بدھ کو دو اداروں اور دو خام تیل کے ٹینکروں پر انسداد دہشت گردی کی نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ سے ظاہر ہوا ہے۔ وزارت نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر وضاحت کی ہے کہ پابندیوں کا ہدف ایسے اہداف ہیں جو ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کے مالی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کی جانب سے بنیادی سامان کی ترسیل میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے پاسداران انقلاب اور قدس فورس کے حمایت یافتہ حوثی نیٹ ورک کی سامان کی ترسیل کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نے یہ بھی جاری رکھا کہ یہ اقدام ہانگ کانگ کے دو جہاز مالکان، مارشل آئی لینڈ اور سامان کی ترسیل کرنے والے دو بحری جہازوں کے متعلق اٹھایا گیا ہے۔ یہ اقدام 27 فروری کو بحری جہاز ARTURA کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی کارروائی کے بعد کیا گیا۔

یہ نئی پابندیاں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی حمایت یا ان کارروائیوں میں کردار ادا کرنے کے الزام میں 4 سینئر حوثی اہلکاروں پر برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے چند ہفتوں بعد لگائی گئی ہیں۔ دونوں ملکوں نے حوثی حکومت کے وزیر دفاع محمد ناصر العتیفی، تحریک کی بحری افواج کے کمانڈر محمد فضل عبدالنبی، کوسٹل ڈیفنس فورسز کے کمانڈر محمد علی قادری اور حوثی فورسز میں خریداری کے ڈائریکٹر محمد احمد طالبی پر پابندیاں عائد کیں۔

امریکی ٹریژری انڈر سیکرٹری برائے انسداد دہشت گردی برائن نیلسن نے گزشتہ جنوری میں ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثیوں کی طرف سے تجارتی بحری جہازوں اور ان کے سویلین عملے پر جاری حملے عالمی سپلائی چین اور نیویگیشن کی آزادی کو متاثر کر رہے ہیں۔ واضح رہے 19 نومبر سے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے اس بین الاقوامی طور پر اہم شپنگ لین میں تجارتی بحری جہازوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے 60 سے زائد حملے کیے ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے منسلک تھے یا اس کی بندرگاہوں کی طرف جا رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *