April 16, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US President Joe Biden looks on as he delivers remarks, from the Rose Garden at the White House in Washington, U.S., October 11, 2023. (Reuters)

امریکی صدر نے یونین آف سٹیٹ خطاب کے بعد جوں جوں اپنی صدارتی انتخاب کے سلسلے میں سرگرمیوں کو تیز کرنا شروع کی ہیں ، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے میں ان کے خیالات میں ناراضگی اور بیزاری کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ پہلے ان کی ایک بے جانے بوجھے ریکارڈ ہو چکی گفتگو سامنے آئی تھی اب انہوں نے مہم کے دوران کارکنوں کے سوالات اور انٹرویو کے دوران بھی اسی انداز میں بات چیت کی ہے۔

انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بارے میں کہا ہے ‘ یاہو کی اپروچ اسرائیل کے فائدے کی نہیں بلکہ اسرائیل کے لیے زیادہ نقصان کی ہے۔’ جوبائیڈن نے یہ بات ہفتے کے روز نشر ہونےوالے اپنے انٹرویو میں کہی ہے۔

اہم بات ہے کہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ان کے اس وقت سب اہم سیاسی حریف بینی گینٹز نے حالیہ دنوں میں وائٹ ہاوس کا دورہ کر کے نیتن یاہو کی پالیسی کو امریکی حکام کے ساتھ خوب تنقید کا نشانہ بناکر گئے ہیں۔ خیال رہے بینی گینٹز نے یہ امریکی دورہ نیتن یاہو کی مرضی کے خلاف کیا ہے۔

جوبائیڈن نے اپنے انٹرویو میں غزہ میں انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے اور رفح میں اسرائیلی کے اگلے جنگی منصوبے کے بارے میں امریکی سرخ لکیر کے حوالے سے متضاد ریمارکس دیے۔اس جواب میں اسرائیلی لیڈر کے بارے میں جوبائیڈن کی برداشت میں کمی کا اظہار ہوتا ہے۔

ایک سوال پر امریکی صدر نے کہا ‘نیتن یاہو کو حماس کے خلاف حق دفاع حاصل ہے ، حماس کا تعاقب کرنے کا بھی حق ہے مگر اسے اس دوران معصوم انسانوں کی جانوں کے نقصان کے بارے میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ان اقدامات کے مضمرات بھی ہوں گے۔’ اس لیے میری رائے یہ ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کی مدد کرنے کے بجائے اس کے مفاد کو زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔’ رفح پر اسرائیل کے امکانی حملے کے بارے میں جوبائیڈن نے غیر واضح جواب دیا’ یہ ایک سرخ لکیر ہے،’ 81 سالہ جوبائیڈن نے فوری طور پر اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ‘ میں کبھی بھی اسرائیل کو تنہا چھوڑنے والا نہیں ہوں ، اسرائیلی دفاع آج بھی اہم ہے۔’

انہوں میں اسی بارے میں مزید کہا ‘ مگر یہ کوئی ایسی سرخ لکیر بھی نہیں ہے ‘ جس کے تحت میں ہتھیاروں کی تمام ترسیل کاٹ دوں یا اسرائیل کا آئرن ڈوم نامی دفاعی نظام نہ ہو۔’

سرخ لکیر والے سوال کے سامنے ایک بار پھر جوبائیدن آگئے تو انہوں نے کہا ‘ سر لکیر ۔۔۔ مراد یہ کہ آپ ایک بار پھر 30000 فلسطینیوں کو قتل نہیں کر سکتے۔’

صدر جوبائیڈن کے لہجے میں تبدیلی کے باوجود، ان کی انتظامیہ نے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو بھیجی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد میں کٹوتی کرنے کے لیے کارکنوں کے مطالبے کو مختصر کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *