April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل سیزن میں ترک لیگ کو تشدد

Screenshot 2024-03-18 081334

ترکیہ میں ایک فٹ بال اسٹیڈیم اس وقت میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا جب ایک ٹیم کے شائقین اور حریف ٹیم کے کھلاڑی شکست کے بعد آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔

اتوار کو ٹرابزنسپور اور فینرباہس کی ٹیموں کے درمیان میچ کے اختتام کے بعد، ٹرابزنسپور کے شائقین نے میدان میں دھاوا بول دیا جب کہ فینرباہس کے کھلاڑی فتح کا جشن منا رہے تھے۔

ویڈیو مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ ٹرابزنسپور کا ایک پرستار میدان میں داخل ہوتا ہے اور تیزی سے جشن منانے والے کھلاڑیوں کی طرف بڑھتا ہے، جن میں سے کچھ اس کی طرف بھاگے اور اسے مارا۔ بعض دیگر نے بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی جن پر سیکورٹی حکام نے قابو پا لیا۔

ویڈیو مناظر میں دیکھا گیا کہ بیلجیئم کے بین الاقوامی کھلاڑی باتشوائے نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے والے شخص کو لات ماری، جب کہ نائجیریا کے کھلاڑی برائٹ اوسائی-سیموئیل نے دوسرے مداح کو مکے مارے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر فوٹیج میں، ایک مداح فینرباہس کے ایک کھلاڑی کو دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آیا، اور دوسرے نے مہمان ٹیم کے گول کیپر، کروشین ڈومینک لیواکووچ کے چہرے پر مکے مارے۔

ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ “فٹ بال کے میدانوں پر تشدد کے واقعات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔”

اس سیزن میں یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ترک لیگ میں تشدد کی کارروائیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہو، جیسا کہ اس سے قبل لیگ کو گذشتہ دسمبر میں انکارگوکو اور ریزسپور کے درمیان میچ کے ریفری پر حملہ کرنے کے بعد پورے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد انکاراگوکو کلب کے صدر فاروق کوڈجا نے ایک گروپ کے ساتھ مل کر میچ کے بعد میدان میں موجود ریفری حلیل اموت ملر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔

کے بعد پورے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *