April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/battlecreekrugby.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US military conducts strikes on eight Houthi targets in Iran-backed Houthi-controlled areas of Yemen, Jan. 22, 2024. (AFP)

ہ جنوری کے آخر میں یمن میں حوثیوں پر امریکہ و برطانیہ کے مشترکہ حملوں کے بعد صدر جوبائیڈن نے کانگریس کو خط لکھا تھا۔ جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ ان حملوں کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ امریکی قانون کے مطابق ضروری تھا کہ 5 دنوں کے اندر اندر جنگ کی منظوری کی قرارداد کانگریس سے لی جاتی۔ تاکہ امریکی فوج ان جنگی حملوں کو یمن میں مزید جاری رکھ سکے۔ نیز حوثیوں کے ڈرون طیاروں اور راکٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کی منظوری لی جاتی۔ تاکہ ان کے لیے وسائل کا مسئلہ نہ رہتا۔

ایک سینیئر قانون ساز نے اس امر کی دوبارہ تصدیق کی ہے کہ صدر کو یمن میں حملے جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری لینا ضورری تھا۔ واضح رہے 1973 کے جنگ کرنے کے اختیارات کی منظوری سے متعلق کانگریس کا کسی بھی امریکی جنگ میں قانونی رول بڑھ چکا ہے۔ اس قانون ‘1973 وار پاورز’ کے تحت صدر کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنگی کارروائیوں کے دو ماہ بعد تک کانگریس کے سامنے جنگ بند کرنے سے متعلق ایک رپورٹ پیش کرے اور یہ بتائے کہ جنگ میں فوجی آپریشنز کا استعمال کیسا رہا۔ مزید کسی بھی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری یا جنگ کو جاری رکھنے کی منظوری لازمی ہے۔

نئی صورتحال میں وائٹ ہاؤس نے ‘العربیہ’ کی طرف سے بار بار رد عمل لینے کی کوشش کا کوئی جواب نہیں دیا کہ آیا صدر جوبائیڈن حوثیوں پر حملوں کے لیے کانگریس سے مزید منظوری لیں گے یا نہیں۔ یاد رہے بحیرہ احمر میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے کیے جانے والے بہت سے حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے اپنے دفاع کا اختیار استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کو نشانہ بنایا۔

اس بارے میں پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کا یہ فطری حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے کارروائیاں کرے۔ اس سلسلے میں زمین پر موجود امریکی فوج کے کمانڈرز ضرورت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

پینٹاگون کی ایک حالیہ بریفنگ کے دوران سیکرٹری اطلاعات میجر جنرل پیٹ رائڈر نے امریکی دستور کے آرٹیکل 2 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر بھی حکم دے سکتا ہے اور اس کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری نہیں ہوتی۔

11 جنوری سے ایک دن پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی جس میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تجارتی جہازوں پر اپنے حملے روکیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق متعلقہ ریاستوں کو اپنے دفاع اور اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے حملے کرنے کا اختیار ہے۔

27 فروری کو امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں سینیٹر کرس مرفی نے کہا ‘آئین کا تقاضا ہے کہ کانگریس جنگی اقدامات کی منظوری دے۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جنگی اقدامات ہیں تو ان کو ضرور منظوری ملنی چاہیے۔’

بحیرہ احمر میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں حوثیوں نے تجارتی جہازوں کے علاوہ امریکی فوجی اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ جس کے جواب میں امریکی فوج نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

حوثیوں کے حملے کے دوران پچھلے ماہ بہت سے جہازوں کو روکا گیا تھا جن میں سے ایک پچھلے ہفتے ڈوب گیا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ڈوبنے سے بحیرہ احمر میں انٹرنیٹ سے متعلق کیبلز کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک اور حوثی حملے کے دوران پچھلے ہفتے تین ملاح ہلاک ہوگئے۔ جبکہ مزید چار زخمی ہوئے۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ان واقعات کے سلسلے میں کوئی جوابی کارروائی نہیں کی گئی۔ امریکی کارروائیاں جو بالعموم یکطرفہ ہوتی ہیں ابھی تک حوثیوں کے حملوں کو روکنے میں ناکام ہیں اور حوثی جن جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ یا اسرائیل سے متعلق ہیں۔ امریکی حکام اس بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ یمن میں حوثیوں کی جنگی صلاحیت کس حد تک موجود ہے۔

امریکی قانون ساز اس امر پر تنقید کرتے ہیں کہ صدر جوبائیڈن کی حوثیوں کے خلاف پالیسی میں یہ واضح نہیں ہے کہ حوثی کب ختم ہوسکیں گے۔ یہ قانون ساز حوثیوں پر امریکی حملوں میں امریکی عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی رقم کے استعمال پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی میزائل اور ہتھیار لاکھوں ڈالر مالیت کے ہیں جو عوامی ٹیکسوں سے خریدے گئے ہیں۔

جمعرات کے روز سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی نے اس سلسلے میں سماعت کی۔ جس میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل ایرک کوریلا نے کہا ‘ابھی ان حملوں میں مزید توانائی کی ضرورت ہوگی اور ہر میزائل حملے کے لیے 1 سے 2 ملین ڈالر خرچ کرنا ہوگا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے میزائلوں کو مار گرایا جا سکے۔’

جنرل کوریلا نے اس موقع پر امریکی بحریہ کی تعریف کی اور کہا ‘بحریہ اس سلسلے میں براہ راست زیادہ قوت کے ساتھ حوثی ڈرونز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس لیے انہیں زیادہ مہنگے میزائل استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آرہی۔’

جمعرات کی رات امریکی فوج نے حوثیوں کی طرف سے فائر کردہ چار جہاز شکن میزائلوں کو راستے میں نشانہ بنایا۔ اسی دوران حوثیوں کے تین ڈرونز کو بھی خلیج عدن کی طرف سے اڑتے ہوئے نشانہ بنایا۔

سینٹ کام کے مطابق یہ ساری کارروائیاں امریکی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ہیں تاکہ بین الاقوامی پانیوں میں آزادی کے ساتھ امریکی نیوی اور تجارتی جہاز نقل و حرکت کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *